پورے صوبے بشمول نئے ضم شدہ اضلاع میں بہترین انٹرنیٹ کی فراہمی صوبائی حکومت کے ایجنڈے میں شامل ہے۔ عوام کو ٹیلی فون اور انٹرنیٹ کی سہولت کی فراہمی کے معاملے میں صوبائی حکومت، وفاق اور ٹیلی کمیونیکشن سے وابستہ تمام سٹیک ہولڈرز ایک پیج پر ہیں۔

ضیاء اللہ بنگش کی زیرصدارت خیبرپختونخوا انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ میں صوبے کے تمام اضلاع میں انٹرنیٹ کی سہولت کی فراہمی کے حوالے سے جائزہ اجلاس.

اجلاس میں آئی ٹی بورڈ کے ڈائریکٹر فنانس محمد منعیم، ڈپٹی ڈائریکٹر عمران خان، پراجیکٹ منیجر جواد خان، مختلف ٹیلی کمیونیکشن کے نمائندگان اور دوسرے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

ضیاء اللہ بنگش کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے تمام اضلاع بشمول نئے ضم شدہ اضلاع میں معیاری انٹرنیٹ کی سہولت کی فراہمی وقت کی اہم ضرورت ہے، اس مد میں صوبائی حکومت نے مرکزی حکومت کو تمام تر ضروری دستاویزات فراہم کر دی ہے اور امید کی جاتی ہے کہ رواں سال اس مسئلے کو بڑی حد تک حل کر لیا جائے گا۔

یونیورسل سروس فنڈ کا حوالہ دیتے ہوئے ضیاء اللہ بنگش کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر صاحبزادہ علی محمود یونیورسل سروس فنڈ کے حکام کے ساتھ مکمل رابطے میں ہیں اور امید کی جاتی ہے کہ رواں سال جون تک اس کے خاطرخواہ نتائج سامنے آجائینگے۔

ضیاء اللہ بنگش کا مزید کہنا تھا کہ صوبائی حکومت وزیراعلیٰ محمود خان کی ہدایت پر صوبے میں سیاحت کے فروع کے لئے سنجیدہ اقدامات اٹھا رہی ہے۔ اس سلسلے میں صوبے کے تمام سیاحتی مراکز میں بہترین انٹرنیٹ کی فراہمی بہت ضروری ہے۔

اجلاس میں گفتگو کے دوران پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) کے نمائندے کا کہنا تھا کہ پی ٹی سی ایل نے صوبے کے تقریبا تمام اضلاع میں فائبر کے ذریعے انٹرنیٹ کی ترسیل مکمل کی ہے۔ ان کے مطابق سیاحت کو مدنظر رکھتے ہوئے مالاکنڈ سے بحرین تک انٹرنیٹ کی فراہمی جاری ہے جبکہ چترال میں بھی فائبر کی سہولت موجود ہے۔ قبائلی اضلاع کے حوالے سے بات کرتے ہوئے پی ٹی سی ایل کے حکام کا کہنا تھا کہ ضلع خیبر کے 80 فیصد علاقوں میں فائبر کی ترسیل کی جاچکی ہے۔ ضلع مہمند کے تحصیل غلنی اور تحصیل یکہ غنڈ میں انٹرنیٹ کی فراہمی کی جا رہی ہے۔ باجوڑ کے تحصیل خار میں جبکہ کرم اور اورکزئی کے کچھ علاقوں میں بھی فائبر بچھائی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیرستان کے علاقوں وانا، میران شاہ اور شکئی میں بھی فائبر کے ذریعے انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کی جارہی ہے۔

اجلاس میں ٹیلی کمیونیکیشن کے دوسرے نمائندگان نے بھی اپنی سروس سے وزیراعلیٰ کے مشیر برائے سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی کو آگاہ کیا۔ دو موبائل فون کمپنیوں کو بھی یونیورسل سروس فنڈ کی جانب سے چترال، لوئر دیر اور اپر دیر میں تھری جی سروس فراہم کرنے کے لئے فنڈز جاری کی جاچکی ہیں۔

ضیاء اللہ بنگش نے اجلاس کے دوران تمام کمپنیوں کے مسائل سے بھی آگاہی حاصل کی اور ان کے حل کے لئے بروقت اور فوری اقدامات اٹھانے کی یقین دہانی کرائی۔ ضیاء اللہ بنگش کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں تمام کاروبار زندگی انٹرنیٹ کے ساتھ وابستہ ہے۔ صوبے کے عوام کو بہترین سہولت فراہم کرکے ناصرف ان کو ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کے قابل بنایا جاسکتا ہے بلکہ سروس کی توسیع سے صوبے میں روزگار کے مواقع بھی پیدا کئے جاسکتے ہیں.

Date happened: 
Friday, January 1, 2021